Author's Guide Line

ہدایات برائے مقالہ نگاران

  مجلہ اسلامک تھیالوجی (JIT)  شش ماہی    تحقیقی مجلہ ہے جو’’دی سہارا نامی‘‘ نجی سوسائیٹی کے تعاون سے تین زبانوں (اردو ،عربی اور انگلش )میں شائع کیا جاتاہے ۔جس  کا مقصدعلوم اسلامیہ  کے شائقین میں  تحقیق کےذوق کوفروغ دینا ہے ۔موصول ہونےوالے مضامین کی اشاعت سے قبل  ابتدائی  ادارتی چھا ن پھٹک کی جاتی ہے ۔اور پھر اشاعت /اور عدم کے بارے میں انتہائی رازداری  سے شعبہ علوم اسلامیہ کے دو ماہرین   کی رائے  کے لیے ارسال کیاجاتا ہے ہے   مثبت رائے کی صورت میں مضمون قابل  اشاعت تصوّر کیا جاتا ہے ۔

مجلہ اسلامک تھیالوجی کو مضمون ارسال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ مضمون نویس  کاحقیقی، غیر مطبوعہ،   سرقہ سے  مبراء مضمون ہے۔جس کی  تمام تر ذمہ داری  مضمون نویس پر عائد ہوگی  ۔ نیز مضمون نویس کے لیے ویب سائیٹ پر موجود حلف نامہ (Under Taking)پر دستخط ضروری  ہیں۔جوویب سائیٹ سے  ڈ اؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔

مجلہ  اسلامک تھیالوجی میں مضامین  شائع کروانے  کے متمنّی کےلیے مضمون  نویسی  میں وہی منہج اپنانا ضروری ہے جو علوم اسلامیہ کے محققین  میں رائج  ہے ۔مضمون نویس حضرات  کی سہولت کے لیے مضمون کو متذکرہ اسلوب پر ڈہالنے کے لیے  درج ذیل چند امور کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

1۔مضمون ایم ایس ورڈ میں ہو.ان پیچ یا پی ،ڈی، ایف ، کاپی ہرگز قابل قبول نہیں ہوگی ۔تمام مضامین جرنل کی آفیشل ای میل  Islamictheology.edior@gmail.com کی وساطت سے ارسال کیے جائیں۔

2۔ مضمون A-4سائز میں ہونا چاہئیے۔ اردو فانٹ جمیل نوری نستعلیق میں اور عربی فانٹ   (TREDIONAL ARABIC) میں 14اور انگلش میں 12ہونا چاہئیے۔صفحات کی تعداد 10سے20 کے درمیان ہونی چاہئیے جس میں ادارہ کمی یا زیادت کا مجاز ہے۔

3 ۔قرآنی نصوص اور دیگر اقتباسات میں فرق ملحوظ رکھنے کے لیے   آیات   کریمہ کو سافٹ ویئرسے کاپی کر   کے قوسین ﴿ ﴾ میں بند کریں۔ عربی مضمون نویس کے لیے اس کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے ۔

4۔ حواشی اور حوالہ جات کے لیے’’ شگاگومینویل ‘‘طرز کو اپنایاجائے۔ لکھتے وقت مشہور نام کو مقدم کریں ،اس کے بعدنام پھر کتاب   ،مکتبہ ،طبع، سن طباعت ،جلد اور صفحہ لکھنا چاہئیے۔

5۔حدیث  اورعربی اقتباس کوبغیر اعراب کے ہونا ضروری ہے ۔حدیث نمبر لکھنے کی صورت میں جلد اور صفحہ لکھنے کی ضرورت نہیں ۔

6۔ مکررحوالہ جات میں پہلی بار  مکمل حوالہ تحریر کرنے کے بعد کتاب کے نام ،جلد اور صفحہ پر اکتفا کیا جائے۔

5۔تمام مصادر و مراجع (Endnote) میں اورخودکار (Automatic) ہونا ضروری ہیں ۔حوالہ جات کے لیے قوسین کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہئیے ۔البتہ خاکوں اور نقسہ جات کے لیے موزوں جگہ کا انتخاب کرنا چاہیئے۔

6۔مصادر اور مراجع رومن انگلش میں تحریر کرنا اور عربی اصطلاحات کی (TRANSLITERATION) کرنا ضروری ہے۔جس کے لیے اس کے جدول سے مدد لی جاسکتی ہے۔

7۔اردو عربی مضامین کے عنوانات کا انگریزی ترجمہ ، انگریزی خلاصہ (Abstract) ،کم ا زکم پانچ کلیدی الفاظ (key words) لکھنا،مضمون کے احاطے کے لیے قائم کیے گئے ذیلی عنوانات کو نمایاں کیا جائے۔ اورحاشیہ میں مضمون نگار کانام ،علمی منصب ،ای میل ایڈرس اورمتعلقہ ادارہ لکھنا ضروری ہے۔

8۔ مضمون کے آخر میں   نتائج ،اور سفارشات اگر ہوں کو جامع انداز میں ذکرکرنا ضروری ہے ۔

9۔چونکہ یہ مجلہ علوم اسلامیہ کے لیے مختص ہے اس لیے   غیر متعلقہ مضمون ناقابل اشاعت ہوگا۔

10۔مضمون تخلیقی ،تحقیق کے اصولوں کے عین مطابق ،املاء وانشاء کے رموز سے مزیّن،کمپوزنگ اور املائی غلطیوں سے خالی ہونا چاہئیے۔مذکورہ صفات سے عاری مضمون کو اشاعت کے قابل نہیں سمجھا جائے گا۔

11۔مجلہ اسلامک تھیالوجی میں طبع شدہ مواد کے ساتھ مجلے کے ایڈیٹر کا متفق ہونا ضروری نہیں جس کی ذمہ داری مضمون نگار یا مترجم پر   عائد ہوگی ۔

12۔مجلہ اسلامک تھیا لوجی کو ارسال کیا گیا   مضمون اس کی ملکیت تصوّر کیا جائے گا شائع نہ ہونےکی صورت میں واپسی کا دعویٰ ناقابل قبول ہوگا۔

 

13۔مجلہ اسلامک تھیالوجی کو بھیجے گئے مضامین میں ضروری ادارتی ترمیم ،تنسیخ وتلخیص کا حق حاصل ہوگا۔

14۔مجلہ اسلامک تھیالوجی کو بھیجے گئے   مضامین کو بغیر کوئی وجہ بتائے شائع نہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

15۔مضمون نگار کو متعلقہ شمارے کی دوکاپیاں دی جائیں گیں ۔

16۔مجلہ میں مضمون شائع کروانے والے خواہشمند حضرات کا پہلے شمار کے کے لیے مارچ سے پہلے اور دوسرے کےلیے ستمبر سے پہلے مضامین کا ارسال کرنا ضروری ہے ۔

17۔مضامین کی آن لائن ترسیلات   بذریعہ (OJS) ضروری ہےجس کی تفصیلات مجلے کی ویب سائیٹ پر موجود ہیں یعنی آن لائن جرنل سسٹم کے مطابق مضمون نگار پہلے اپنا اندراج کرائے اس کے بعد بذریعہ (OJS) مضمون بھیجیں